کیا آپ کے سمارٹ فون کی سکرین پر اکثر پراسرار پاپ اپس ظاہر ہوتے ہیں یا موبائل استعمال کرتے وقت ڈیوائس سست ہو جاتی ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ انڈرائیڈ میں دیگر ایپس پر اوورلے کی اجازت ہو سکتی ہے۔ اینڈرائیڈ کا 'Draw Over Other Apps' یا 'Display Over Other Apps' کا فیچر اگرچہ چیٹ ہیڈز اور سکرین ریکارڈر جیسی سہولیات کے لیے مفید ہے، لیکن یہی صلاحیت آپ کی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے لیے ایک خاموش خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ ہیکرز اور غیر معتبر ایپس اس فیچر کا غلط استعمال کرتے ہوئے 'Tapjacking' جیسے حملے کرتی ہیں، جس کے ذریعے آپ کے نادانستہ کلک سے اہم پاس ورڈز یا مالیاتی ڈیٹا چوری ہو سکتا ہے۔ اس لیے اینڈرائیڈ میں دیگر ایپس پر اوورلے کی اجازت کا باقاعدگی سے جائزہ لینا اور غیر ضروری رسائی کو منسوخ کرنا انتہائی ضروری ہے۔
اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں یہ فیچر ایپس کو اجازت دیتا ہے کہ وہ دیگر فعال ایپلی کیشنز کے اوپر اپنا ویژول مواد یا بٹن دکھا سکیں۔ مثال کے طور پر فیس بک میسنجر کا ببل یا نیویگیشن ایپس کا نقشہ اسی کی بدولت کام کرتا ہے۔ تاہم، سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے یہ اجازت ایک دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتی ہے۔
سائبر مجرم اکثر جعلی اور غیر مرئی لیئرز بنا کر صارف کو غلط جگہ پر کلک کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جسے تکنیکی زبان میں ٹیپ جیکنگ کہا جاتا ہے۔
جب کوئی مشکوک ایپ اوورلے کی رسائی حاصل کر لیتی ہے، تو وہ آپ کی بینکنگ ایپ یا سوشل میڈیا لاگ ان سکرین کے اوپر ایک شفاف لیئر چسپاں کر سکتی ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اپنی اصل ایپ پر پاس ورڈ درج کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں آپ کا ڈیٹا اس مخفی لیئر کے ذریعے ہیکرز تک پہنچ رہا ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، پس منظر میں مسلسل اوورلے پروسیس چلنے سے فون کی ریم (RAM) پر بوجھ پڑتا ہے اور سکرین میں تاخیر یا UI lag پیدا ہوتا ہے۔
اپنے سمارٹ فون کی سیکیورٹی اور رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے آپ کو وقتاً فوقتاً یہ دیکھنا چاہیے کہ کن ایپس کے پاس یہ خاص رسائی موجود ہے۔ مختلف اینڈرائیڈ فونز (جیسے سام سنگ، شیاؤمی یا گوگل پکسل) کے مینو میں معمولی فرق ہو سکتا ہے، لیکن بنیادی طریقہ کار ایک جیسا ہی ہوتا ہے:
یہاں آپ کو ان تمام ایپلی کیشنز کی فہرست نظر آئے گی جن کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے یا وہ اس کی درخواست کر سکتی ہیں۔
جب آپ کے سامنے تمام ایپس کی فہرست آ جائے، تو ہر ایسی ایپ کا جائزہ لیں جس کی کارکردگی کے لیے اوورلے ضروری نہیں ہے۔ گیمز، فوٹو ایڈیٹرز، یا ٹارچ والی ایپس کو عام طور پر اس پرمیشن کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔
اگر آپ کو معلوم نہ ہو کہ کوئی ایپ محفوظ ہے یا نہیں، تو سیکیورٹی کے پیش نظر اس کی رسائی بند کر دینا ہی بہتر حکمت عملی ہے۔ اگر بعد میں اس ایپ کے کسی فیچر کو اوورلے کی ضرورت پڑی، تو وہ آپ سے دوبارہ اجازت مانگ لے گی۔
غیر ضروری ایپلی کیشنز سے اوورلے کا اختیار واپس لینے کے فوری اور دیرپا فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کا فون سائبر حملوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور نادانستہ کلکس کے ذریعے ڈیٹا چوری ہونے کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ دوسرا بڑا فائدہ فون کی کارکردگی میں بہتری ہے۔ جب سسٹم پر اضافی لیئرز کا بوجھ نہیں ہوتا، تو سکرین کا رسپانس ٹائم بہتر ہوتا ہے اور ڈیوائس کی بیٹری کی کھپت میں نمایاں کمی آتی ہے۔
اپنے فون کو سیکیور رکھنے کے لیے مہینے میں کم از کم ایک بار انڈرائیڈ میں دیگر ایپس پر اوورلے کی اجازت کا جائزہ لیں تاکہ آپ کا ڈیٹا ہمیشہ محفوظ رہے۔
کیا آپ نے کبھی اپنے فون میں اوورلے پرمیشنز چیک کی ہیں؟ اپنے خیالات اور تجربات نیچے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!









